ایمان اور توکل


شدید بارش کے سبب ٹیکسی لینا ہی بہتر تھا، چنانچہ میں نے ایک ٹیکسی کو اشارہ کیا۔۔۔! “ماڈل کالونی چلو گے۔۔۔؟” ٹیکسی والا: “جی بالکل حضور۔۔۔!” “کتنے پیسے لو گے۔۔۔؟” ٹیکسی والا: “جو دل کرے دے دینا سرجی۔۔۔۔!” “پھر بھی۔۔۔؟” ٹیکسی والا: “سر! ایک بات کہوں برا مت ماننا۔ میں ایک جاہل آدمی ہوں۔ پر اتنا جانتا ہوں کہ جو الله نے میرے نام کا آپکی جیب میں ڈال دیا ہے، وہ آپ رکھ نہیں سکتے اور اس سے زیادہ دے نہیں سکتے، توکل اسی کا نام ہے۔۔۔!” اس ٹیکسی والے کی بات میں وہ ایمان تھا جس سے ہم اکثر محروم رہتے ہیں۔ خیر میں ٹیکسی میں بیٹھ گیا، ابھی ہم تھوڑا ہی آگے گئے تھے کہ مسجد دکھائی دی۔ ٹیکسی والا: “سر جی! نماز پڑھ لیں پھر آگے چلتے ہیں، کیا خیال ہے۔۔۔؟” اس نے ٹیکسی مسجد کی طرف موڑ لی۔ ٹیکسی والا: “آپ نماز ادا کریں گے۔۔۔؟” “کس مسلک کی مسجد ہے یہ۔۔۔؟” میرا سوال سن کر اس نے میری طرف غور سے دیکھا، “باؤ جی! مسلک سے کیا لینا دینا، اصل بات سجدے کی ہے، الله کے سامنے جھکنے کی ہے۔ یہ الله کا گھر سب کا ہے۔۔۔!” میرے پاس کوئی عذر باقی نہیں تھا۔ نماز سے فارغ ہوئے اور اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگے۔ “سر جی! آپ نماز باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔۔۔؟” “کبھی پڑھ لیتا ہوں، کبھی غفلت ہو جاتی ہے۔۔۔!” یہی سچ تھا۔ ٹیکسی والا: “سر جی! جب غفلت ہوتی ہے تو کیا یہ احساس ہوتا ہے کہ غفلت ہو گئی اور نہیں ہونی چائیے تھی۔۔۔؟ معاف کرنا، میں آپکی ذات پر سوال نہیں کر رہا۔ لیکن اگر احساس ہوتا ہے تو الله ایک دن آپ کو ضرور نمازی بنا دے گا، اور اگر احساس نہیں ہوتا تو—-!!” اُس نے دانستہ طور پر جملہ ادھورا چھوڑ دی اور خاموش ہو گیا- اسکی خاموشی مجھے کاٹنے لگی۔ “تو کیا۔۔۔؟” میرا لہجہ بدل گیا۔ ٹیکسی والا: “اگر آپ ناراض نہ ہوں تو کہوں۔۔۔؟” “ہاں بولیں۔۔۔!ً” ٹیکسی والا: “اگر غفلت کا احساس نہیں ہو رہا تو آپ اپنی آمدن کے وسائل پر غور کریں، اور اپنے الله سے معافی مانگیں، کہیں نہ کہیں ضرور الله آپ سے ناراض ہے۔۔۔!” ہم منزل پہ آ چکے تھے۔ میں نے اسکے توکل کا امتحان لینے کیلئے جیب سے پچاس کا نوٹ نکالا اور اس کے ہاتھ پہ رکھ دیا۔ اس نے بسم الله کہا اور نوٹ جیب میں رکھ کر کار موڑنے لگا۔ میں نے آواز دی، وہ رک گیا۔ ٹیکسی والا: “حکم سر جی۔۔۔؟” “تم ان پیسوں میں خوش ہو۔۔۔؟” ٹیکسی والا: “سر جی! مشکل سے بیس روپے کا پٹرول جلا ہو گا۔ الله نے اس خراب موسم میں بھی میرے بچوں کی روٹی کا انتظام کر دیا ہے۔۔۔!” میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ میں نے جیب سے مزید دو سو نکالے اور اسے دینے کے لئے ہاتھ بڑھایا۔ وہ مسکراتے ہوئے بولا، ” سر جی! دیکھا آپ نے، میرا حق پچاس روپے تھا، اور الله کے توکل نے مجھے دو سو دیا۔۔۔!” وہ ٹیکسی والا تو چلا گیا، لیکن جاتے جاتے اللہ پر میرے ایمان اور توکل کو جھنجھوڑ گیا.

Source: Anonymous